22 جولائی 2014 - 11:08
گروپ پانچ جمع ایک اور امریکہ میں اختلاف

ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان چھ مہینے تک مذاکرات کے بعد، حتمی نتائج تک پہنچنے کےلئے مذاکرات کی مدت چوبیس نومبر تک بڑھا دی گئی ہے۔

ابنا: ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان چھ مہینے تک مذاکرات کے بعد، حتمی نتائج تک پہنچنے کےلئے مذاکرات کی مدت چوبیس نومبر تک بڑھا دی گئی ہے۔اس مرحلے کے مذاکرات کے دوران ہونےوالے نئے اتفاق رائے کی شقوں میں غیرملکی بینکوں میں موجود ایران کے دوارب اسی کروڑ ڈالر فیکس ڈیپازٹ جسے بلاک کردیاگیا تھا، اسے آزاد کرنا اور بعض دوسری پابندیوں کی منسوخی کی مدت میں توسیع کرنا شامل ہے۔
یورپی یونین کی کونسل نے کل پیر کے دن اعلان کیا کہ اس نے ایران پر عائد بعض پابندیوں کو چوبیس نومبر تک کے لئے معلق کردیاہے۔
اس بیان میں آیا ہے کہ پابندیوں کے معلق ہونے سے ایران کو اپنا خام تیل خریدنے والوں کے لئے نقل وحمل اور انشورنس سروسز فراہم کرنے، درآمدات، پیٹروکیمیکل مصنوعات کی خرید فروخت، اور سونے سمیت قیمتی دھاتوں کی تجارت کے مواقع حاصل ہوجائيں گے۔ اس کے ساتھ ہی آئندہ چار مہینوں تک ایران اور ایران سے باہر فنڈز کی منتقلی کی بھی آزادی حاصل ہوگی ۔
ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ایٹمی مسئلے میں حتمی معاہدے پردستخط کے لئے ابتدائی اقدام پابندیوں کی تدریجی منسوخی ہے۔ امریکہ نے پابندیوں کے ہتھکنڈے سے دس برسوں سے ایران کو اقتصادی اور ایٹمی ٹیکنالوجی کے میدانوں میں ترقی کے اہم مواقع سے فائدہ اٹھانےسے روکنے کی کوشش کرتا رہا۔
امریکہ نے اس بیھودہ عمل کے تحت ایران پر مسافربردار طیاروں، گاڑیوں، اور انجینیئرنگ کے کل پرزے فروخت کرنے پر یکطرفہ پابندی عائد کردی اور یورپی ممالک کو بھی اس پر عمل کا پابند کردیا،اگرچہ ان پابندیوں کی منسوخی میں یورپی یونین اور امریکہ کامشترکہ اقدام جنیوا معاہدے کے تناظر میں انجام پایا ہے لیکن اس میں دوسرے عوامل کا بھی کردار ہے جو امریکہ کی راہ میں حائل ہيں۔
اقتصادی جریدہ وال اشٹریٹ جرنل نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں لکھا ہے کہ گذشتہ اٹھارہ برسوں سے ایران پرعائد پابندیوں کےباعث، امریکہ کے ہاتھ سے ایک سوپچھتراعشاریہ تین ارب ڈالر کےبرآمداتی مواقع ہاتھ سے نکل گئے۔
بعض سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ ویانا اجلاس میں چین اور روس کے وزرائے خارجہ کی عدم موجودگی نے گروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان اختلاف نظرکونمایاں کردیا۔
اس تبدیلی کی وجہ، شایدکسی حد تک ایران کے خلاف امریکہ کی یکطرفہ پالیسیوں پرمخالفتوں کا ابھرکرسامنےآناہے بالخصوص ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان گذشتہ سال چوبیس نومبر میں ہونے والے معاہدے کے بعد اس کی اہمیت کم ہوکررہ گئي ہے۔
اس وقت اس خیال کوتقویت ملی ہے کہ ایران سے امریکی مطالبات ایٹمی مسئلے میں بحالی اعتماد کے ہدف سے آگے بڑہ چکے ہيں۔ جرمنی کے وزيرخارجہ نے بھی کہا ہے کہ انھیں اس بات پر یقین نہيں کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے درپے ہے۔
نیویارک ٹائمز نے بھی اپنی کل کی اشاعت میں اسی نکتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ایک تجزیاتی مقالے میں لکھا ہے کہ گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان اپنی درخواست پیش کرنے تک پر اتفاق نہيں ہے۔
نیویارک ٹائمز کی نظرمیں اوبامہ اس وقت ہمیشہ کی طرح یہ توکہہ سکتے ہيں کہ تمام آپشنز سامنے ہيں لیکن جب تک مذاکرات جاری رہتے ہيں اس وقت تک صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ صرف یہ آپشن بچا ہے کہ مزید گفتگوجاری رہے۔
اس وقت مذاکرات جاری رکھنے پر مبنی ویانا سمجھوتے سے، حتمی اتفاق رائے تک پہنچنے کے لئے باہمی اقدام کے لئے مزید موقع حاصل ہوا ہے اور طرفین ، تکمیکی اقدامات پر عمل درآمد کے پابند ہیں لیکن فرق صرف یہ ہے کہ امریکہ اب فیصلوں میں مرکزی کردار کا حامل نہيں ہے اورحقائق تبدیل ہوگئے ہيں۔

.......

/169